اسلام آباد: چین کی وزارتِ تجارت نے پیر کے روز یورپی یونین کے مجوزہ انڈسٹریل ایکسیلیریشن ایکٹ (IAA) پر شدید تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امتیازی قوانین کے خلاف جوابی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔چین کی وزارتِ تجارت کے ترجمان کے مطابق یہ قانون غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بڑی رکاوٹیں پیدا کرتا ہے اور اسٹریٹجک شعبوں میں چینی کمپنیوں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بناتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس قانون کے تحت بیٹریز، الیکٹرک گاڑیاں، فوٹو وولٹائکس اور اہم خام مال کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر سخت شرائط عائد کی جا رہی ہیں، جبکہ سرکاری خریداری اور امدادی پالیسیوں میں "یورپی یونین میں تیار شدہ” شقیں شامل کی جا رہی ہیں، جو کہ ادارہ جاتی امتیاز کے مترادف ہیں۔وزارت نے یورپی کمیشن کو باضابطہ طور پر اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی مواد کی شرط، جبری ٹیکنالوجی منتقلی، دانشورانہ املاک سے متعلق پابندیاں اور خریداری میں رکاوٹیں ختم کی جائیں اور عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے قواعد کی مکمل پاسداری کی جائے۔ ترجمان نے زور دیا کہ اگر یورپی یونین نے چین کے خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس قانون کو آگے بڑھایا اور چینی کمپنیوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا تو چین اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے سخت جوابی اقدامات کرے گا۔
چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اب روایتی اینٹی ڈمپنگ اور اینٹی سبسڈی اقدامات سے آگے بڑھ کر معاشی سلامتی کے ایک وسیع فریم ورک کی جانب جا رہی ہے، جو یورپ میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں کے لیے غیر مساوی مسابقتی ماحول پیدا کر رہا ہے۔














