صدر آصف علی زرداری نے اپنے دورۂ چین کے دوران صوبہ ہنان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں، صنعتی دورے اور مختلف تعاوناتی معاہدوں میں شرکت کی۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین اور پاکستان اپنے سفارتی تعلقات کے پچھتر سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔دورے کا ایک اہم اور علامتی پہلو اُس وقت سامنے آیا جب صدر زرداری شاؤشان گئے، جو ماؤ زے تنگ کی جائے پیدائش ہے۔ وہاں انہوں نے ماؤ زے تنگ کے مجسمے پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور چین کے بانی رہنماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی خیر سگالی کا اظہار ہوا۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان کے مطابق صدر زرداری کا یہ دورہ پچیس اپریل سے یکم مئی تک جاری رہے گا، جس میں صوبہ ہائی نان کا دورہ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر دوستانہ روابط اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے تاکہ مشترکہ مستقبل کی حامل چین پاکستان برادری کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔صدر زرداری نے چانگشا میں سانی ہیوی انڈسٹری اور ہنان ٹی گروپ کا دورہ بھی کیا، جہاں صنعتی تعاون، زرعی ٹیکنالوجی، چائے کی برآمدات اور ویلیو ایڈیشن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر کراچی میں پانی کو قابلِ استعمال بنانے (ڈی سیلینیشن)، زرعی ٹیکنالوجی، اور چائے کے شعبے میں تعاون سے متعلق تین مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے گئے، جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت تعاون کو مزید فروغ دینے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔














