ریاض: سعودی عرب نے چین کے ساتھ کھیلوں کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے اور عالمی کھیلوں کے میدان میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بات سعودی اولمپک و پیرا لمپک کمیٹی کے سی ای او اور سیکرٹری جنرل عبدالعزیز بایشین نے ایشین بیچ گیمز کے موقع پر کہی۔عبدالعزیز بایشین نے چین کی جانب سے ایونٹ کے شاندار انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ بڑے عالمی مقابلوں کی میزبانی میں چین کی تنظیمی صلاحیت اور باریک بینی قابلِ تعریف ہے، جس کا واضح مظاہرہ ان کھیلوں میں نظر آ رہا ہے۔انہوں نے میزبان شہر سینیا کو متحرک اور قدرتی حسن سے بھرپور قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ساحلی کھیلوں کے لیے نہایت موزوں مقام ہے۔
بایشین نے سعودی شہریوں کے لیے چین کی ویزا فری پالیسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے اور کھلاڑیوں، کوچز اور آفیشلز کے تبادلوں کے ساتھ مشترکہ تربیت اور مقابلوں کے مواقع بڑھیں گے۔
سعودی عرب تیزی سے ایک علاقائی اسپورٹس حب کے طور پر ابھر رہا ہے اور آئندہ بڑے ٹورنامنٹس، جن میں اے ایف سی ایشین کپ 2027 اور فیفا ورلڈ کپ 2034 شامل ہیں، کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔بایشین کا کہنا تھا کہ کھیل صرف مقابلے تک محدود نہیں بلکہ یہ سماجی روابط اور عالمی تعلقات کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں تقریباً 60 فیصد بالغ افراد باقاعدگی سے جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ نوجوانوں کی شمولیت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ بہتر انفراسٹرکچر اور کھلاڑیوں کی تربیت کے پروگرامز ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایشین کپ اور ورلڈ کپ کی تیاری قومی ترجیح ہے اور سعودی عرب چینی کھلاڑیوں، ٹیموں اور شائقین کو خوش آمدید کہنے کا منتظر ہے۔بایشین نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے میدان میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن میں اسپورٹس سائنس، نوجوانوں کی تربیت، کوچنگ اور ایونٹ مینجمنٹ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین کی کھیلوں میں کامیابیاں متاثر کن ہیں اور اس کی حکمت عملی میں تسلسل اور وژن نمایاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے نوجوانوں اور کھلاڑیوں کے لیے بامعنی مواقع پیدا کرنا اس شراکت داری کا بنیادی مقصد ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مستقبل میں مزید عالمی کھیلوں کی میزبانی کے لیے تیار ہے، خصوصاً بیچ اسپورٹس کے مقابلوں کے لیے، اور ممکن ہے کہ آئندہ ایشین بیچ گیمز کی میزبانی پر بھی غور کیا جائے۔














