پندرہ اپریل 2026 کی صبح، شی جن پھنگ نے بیجنگ میں سرگئی لاوروف سے ملاقات کی۔
شی جن پھنگ نے اس موقع پر کہا کہ اس سال چین اور روس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کو تیس سال مکمل ہو رہے ہیں، جبکہ “چین-روس خوشگوار ہمسائگی، دوستی اور تعاون کے معاہدے” کو بھی 25 برس ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل ترقی کر رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں تعاون کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ پیچیدہ عالمی حالات میں چین-روس تعلقات کا استحکام اور باہمی اعتماد نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو قیادت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر عمل کرتے ہوئے اسٹریٹجک رابطوں اور سفارتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔
شی جن پھنگ نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر، چین اور روس کو قریبی اور مضبوط شراکت داری کے ذریعے اپنے مشترکہ مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے، گلوبل ساؤتھ ممالک کے اتحاد کو فروغ دینا چاہیے، اور بطور بڑی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنی چاہئیں۔
اس موقع پر سرگئی لاوروف نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کی رہنمائی میں روس-چین تعلقات نے مشکل عالمی حالات میں بھی غیر معمولی استحکام اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں مثبت پیش رفت جاری ہے جبکہ عوامی اور ثقافتی روابط بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ روس، چین کے ساتھ مل کر تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور عالمی امن و استحکام کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔














