ڈی پی پی حکام کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے کی بھرپور کوششوں کے باوجود رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں، مین لینڈ میں تائیوان کے ہم وطنوں کے لیے جاری کیے جانے والے سفری اجازت ناموں کی تعداد میں سالانہ بنیاد پر 11.8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مین لینڈ میں داخل ہونے والے تائیوان کے ہم وطنوں کی تعداد میں 27.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس حوالے سے 15 اپریل کو، چین کی ریاستی کونسل کے دفتر امورِ تائیوان کی معمول کی پریس کانفرنس میں ترجمان چھن بن حوا نے کہا کہ حقائق بار بار یہ ثابت کرتے ہیں کہ امن، ترقی، تبادلہ اور تعاون کی خواہش ہی تائیوان کے معاشرے کی غالب عوامی رائے ہے۔ ڈی پی پی حکام عوامی خواہشات کو نظر انداز کرتے ہوئے حالات کے دھارے کے خلاف چل رہے ہیں، اور اس کا انجام ناکامی ہی ہوگا۔














