برسلز: یورپی یونین میں قائم چینی کاروباری تنظیم، چائنا چیمبر آف کامرس ٹو دی یورپی یونین (CCCEU) نے یورپی کمیشن کے اس فیصلے پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے جس کے تحت پرتگال کے لزبن میٹرو منصوبے میں ایک چینی کمپنی کو خارج کر دیا گیا۔چیمبر کے مطابق یہ فیصلہ یورپی یونین کے فارن سبسڈیز ریگولیشن (FSR) کے تحت کیا گیا، جس میں ایک چینی ذیلی کنٹریکٹر کو مبینہ طور پر “مارکیٹ میں بگاڑ پیدا کرنے والی سبسڈی” کی بنیاد پر منصوبے سے ہٹانے کا کہا گیا۔CCCEU نے کہا کہ متعلقہ چینی کمپنی صرف ایک سب کنٹریکٹر کے طور پر شامل تھی اور اس کا معاہدہ مجموعی منصوبے کے 10 فیصد سے بھی کم تھا، جو عام طور پر کسی بڑے اثر و رسوخ کی نشاندہی نہیں کرتا۔ اس کے باوجود اسے “اہم” قرار دینا اور اس کے خلاف اقدامات اٹھانا سوالیہ نشان ہے۔
چیمبر نے تحقیقات کے طریقہ کار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کو بار بار صرف دو سے تین دن کا وقت دیا جاتا ہے تاکہ وہ پیچیدہ دستاویزات اور معلومات فراہم کرے، جو کہ سرحد پار شواہد جمع کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ اس سے کمپنی کے دفاع اور قانونی حق متاثر ہوتے ہیں۔مزید کہا گیا کہ سب کنٹریکٹر کو تبدیل کرنے کی شرط نہ صرف موجودہ معاہدوں اور بولی کے عمل میں مداخلت ہے بلکہ اس سے کاروباری فیصلوں میں غیر یقینی صورتحال اور اخراجات میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔
CCCEU کے مطابق موجودہ شکل میں FSR یورپی کمیشن کو سبسڈی کے تعین، اثرات کے جائزے اور اصلاحی اقدامات کے انتخاب میں بہت زیادہ اختیارات دیتا ہے، جو ممکنہ طور پر چینی کمپنیوں کی یورپی یونین میں شمولیت کو محدود کر سکتا ہے۔
چیمبر نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ اس ریگولیشن کے نفاذ میں توازن، غیر امتیازی سلوک، شفافیت اور قانونی تقاضوں کو یقینی بنائے، اور مارکیٹ میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرے تاکہ ایک کھلا اور منصفانہ کاروباری ماحول برقرار رکھا جا سکے














