اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو چھونگ نے کہا ہے کہ چین نے 7 تاریخ کو سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز سے متعلق قرارداد کے مسودے کو ویٹو کر کے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روک دیا۔ ان کے مطابق اس اقدام نے عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دی۔
سلامتی کونسل میں ویٹو کے استعمال پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین خلیجی ممالک کے تحفظات کو سمجھتا ہے، تاہم سلامتی کونسل کے اقدامات کا مقصد صورتحال کو ٹھنڈا کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ غیر مجاز فوجی کارروائیوں کو قانونی جواز دینا۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی فیصلے سے طاقت کے استعمال کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز ضروری ہے جو خطے میں کشیدگی کو بڑھائیں یا تنازع کو مزید سنگین بنا دیں۔
فو چھونگ کے مطابق آبنائے ہرمز میں آمد و رفت سے متعلق صورتحال دراصل ایران کے گرد جاری تنازع کے اثرات کا نتیجہ ہے، اور خطے میں پائیدار بہتری کے لیے مکمل جنگ بندی ناگزیر ہے۔













