بیجنگ: چین نے 2025 میں معدنی ذخائر اور پیداوار کے میدان میں عالمی برتری حاصل کرلی ہے۔ چین کی وزارت قدرتی وسائل کے مطابق ملک 14 مختلف معدنیات کے ذخائر اور 17 معدنیات کی پیداوار میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے۔
بیجنگ میں پریس کانفرنس کے دوران حکام نے بتایا کہ 14ویں پانچ سالہ منصوبے (2021 تا 2025) کے دوران معدنی وسائل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ چین اس وقت نایاب زمینی عناصر (Rare Earths)، ٹنگسٹن، ٹن، مولیبڈینم، اینٹمونی، گیلیم، جرمینیم، انڈیم، فلورائٹ اور گریفائٹ جیسے اہم معدنیات کے ذخائر میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔
صرف ذخائر ہی نہیں بلکہ پیداوار کے شعبے میں بھی چین کی برتری برقرار ہے۔ ملک کوئلہ، وینیڈیم، ٹائٹینیم، زنک، سونا، فاسفورس اور نایاب زمینی عناصر سمیت 17 معدنی شعبوں میں سب سے زیادہ پیداوار رکھتا ہے۔ ان میں سے 11 معدنیات—جن میں نایاب زمینی عناصر، ٹنگسٹن، اینٹمونی، گیلیم، انڈیم اور ٹیلوریم شامل ہیں—کی عالمی پیداوار کا نصف سے زیادہ حصہ چین فراہم کرتا ہے۔چین کی کان کنی اور دھات سازی کی صنعتیں اس کی صنعتی طاقت کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔
2025 میں ملک کی کان کنی کی صنعت کی مجموعی مالیت تقریباً 32.7 کھرب یوآن (تقریباً 4.8 کھرب ڈالر) رہی، جو ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 23 فیصد ہے۔مزید برآں، چین 30 سے زائد دھاتی مصنوعات کی عالمی پیداوار میں بھی سرفہرست ہے، جن میں 17 مصنوعات—جیسے مینگنیز، ایلومینیم، اسٹیل، تانبا اور نایاب زمینی مواد—عالمی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ بناتی ہیں۔ یہ پیش رفت عالمی سپلائی چینز میں چین کے مرکزی کردار کو مزید مضبوط بناتی ہے اور صنعتی و پیداواری شعبوں میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتی ہے۔














