چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکُن نے بدھ کے روز ایک پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ دنیا میں اب نام نہاد “جمہوریہ چین (ROC) کے صدر” کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی، اور جو بھی اس شناخت کو استعمال کرتا ہے وہ دراصل خود کو گمراہ کر رہا ہے اور اپنی سبکی کا باعث بن رہا ہے۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب میڈیا نے تائیوان کے علاقائی رہنما لائی چنگ-تے کے ایسواتینی کے متوقع دورے کے بارے میں سوال کیا، جسے مبینہ طور پر ان کے سفر کے لیے ضروری پرواز کی اجازتیں منسوخ ہونے کے بعد منسوخ کر دیا گیا۔
تائیوانی حکام نے الزام عائد کیا کہ ماریشس اور مڈغاسکر جیسے ممالک نے یہ اقدام چین کے “اقتصادی دباؤ” کے تحت کیا ہے۔گو جیاکُن نے کہا کہ ایسواتینی کے علاوہ افریقہ کے تمام 53 ممالک نے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ ان ممالک نے افریقی یونین کے ساتھ مل کر 2024 کے بیجنگ سمٹ برائے فورم آن چائنا افریقہ تعاون (FOCAC) میں بیجنگ اعلامیہ کی توثیق کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ “ون چائنا اصول” کی مکمل حمایت کرتے ہیں، جس کے مطابق دنیا میں صرف ایک چین ہے، تائیوان چین کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے، اور عوامی جمہوریہ چین کی حکومت ہی پورے چین کی واحد قانونی نمائندہ حکومت ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ یہ اصول بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کے عین مطابق ہے، اور چین اس حمایت کو سراہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ون چائنا” اصول عوامی خواہش، وقت کے رجحان اور انصاف پر مبنی مقصد کی عکاسی کرتا ہے، اور کوئی بھی اسے روک نہیں سکتا۔گو جیاکُن کے مطابق “تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں” کی کوششیں بالآخر ناکام ہوں گی، کیونکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی مینٹِس (ٹڈی نما کیڑا) ایک چلتی ہوئی گاڑی کو روکنے کی کوشش کرے—یہ کوشش اپنی ہی تباہی کا باعث بنے گی۔














