اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے گوادار بندرگاہ کے ذریعے چین کو گدھے کے گوشت اور کھال کی برآمد کی منظوری دے دی ہے، جو پاکستان کی لائیو اسٹاک تجارت میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔یہ فیصلہ پیر کے روز وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ وزارتِ غذائی تحفظ کی جانب سے پیش کی گئی سمری کی بنیاد پر موجودہ ذخیرے کو طے شدہ برآمدی طریقہ کار کے مطابق فروخت کرنے کی اجازت دی گئی۔اجلاس کے دوران چیف اکانومسٹ نے معاشی اشاریوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی اور مجموعی رجحان معاشی استحکام کی طرف اشارہ کر رہا ہے، جبکہ ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی رفتار بھی کم ہوئی ہے۔ای سی سی نے مختلف وزارتوں کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹس (TSGs) کی بھی منظوری دی۔ ان میں کینابیس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (CCRA) کے لیے 10 کروڑ روپے، حکومتِ بلوچستان کے لیے 31 کروڑ 10 لاکھ روپے، اور قومی احتساب بیورو (NAB) کے لیے 37 کروڑ 20 لاکھ روپے شامل ہیں تاکہ ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ مزید برآں وزارت بین الصوبائی رابطہ کے لیے 3 کروڑ روپے قومی ہاکی ٹیم کو ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے پر انعام دینے کے لیے مختص کیے گئے۔پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) کے لیے بھی مالی معاونت کی منظوری دی گئی، جس کے تحت 5 ارب 98 کروڑ روپے واجبات کی ادائیگی، بشمول پنشن، طبی اخراجات اور تنخواہوں کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت ای سی سی نے درآمدی پالیسی آرڈر میں ترمیم کی بھی منظوری دی، جس کے تحت جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے گی۔ یہ اقدام پاکستان کو عالمی تجارتی اور لیبر معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
یہ اجلاس حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ عالمی تجارتی اصولوں کی پاسداری کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔














