بیجنگ: چین نے ایران سے متعلق جاری فوجی کشیدگی پر فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان Mao Ning نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سب سے بڑی ترجیح فوجی کارروائیوں کا فوری خاتمہ اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل ہے تاکہ خلیجی خطے میں امن و استحکام بحال کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران تنازع کو کئی ہفتے گزر چکے ہیں اور فریقین کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس کے باعث عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں، اور عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی اور محفوظ راستوں کی فراہمی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں سخت بیانات کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا ہے، تاہم اطلاعات ہیں کہ دونوں ممالک ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔
Wang Yi نے اس دوران ایران، اسرائیل، روس اور خلیجی ممالک سمیت مختلف فریقین سے 26 ٹیلی فونک رابطے کیے، جبکہ چین کے خصوصی ایلچی نے بھی مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کیا تاکہ کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا جا سکے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان نے حال ہی میں پانچ نکاتی امن اقدام پیش کیا ہے، جو جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے عالمی اتفاق رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کا استعمال امن نہیں لاتا، بلکہ سیاسی حل ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ تمام فریقین کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس جنگ کا خاتمہ کرنا ہوگا، جو کہ ابتدا ہی میں نہیں ہونی چاہیے تھی۔














