اقوامِ متحدہ: چین کے مستقل مندوب فو کانگ نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اقدامات طاقت کے استعمال کا جواز نہیں بننے چاہئیں اور نہ ہی ایسے اقدامات کیے جائیں جو کشیدگی میں مزید اضافہ کریں۔
سلامتی کونسل ایک مسودہ قرارداد منظور کرنے میں ناکام رہی، جس میں آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری راستوں کے استعمال میں دلچسپی رکھنے والی ریاستوں کو دفاعی نوعیت کے تعاون کی ترغیب دی گئی تھی تاکہ جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، جس میں تجارتی جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرنا بھی شامل تھا۔
اس قرارداد کے حق میں سلامتی کونسل کے گیارہ ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ چین اور روس نے مخالفت کی، اور کولمبیا اور پاکستان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
اپنے ووٹ کی وضاحت کرتے ہوئے فو کانگ نے کہا کہ ایران میں جاری تنازع اور اس کے اثرات نے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے اور رکاوٹیں بڑھتی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری تھے، ایران پر فوجی حملے کیے، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔
فو کانگ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے، جبکہ شہریوں اور غیر فوجی تنصیبات کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحری راستوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں قرارداد کو تنازع کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی کرنی چاہیے تھی اور ان کے حل کے لیے مناسب اقدامات تجویز کرنے چاہئیں، تاکہ بحری راستوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور مذاکرات کے ذریعے امن قائم کیا جا سکے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد میں تنازع کی مکمل اور متوازن تصویر پیش نہیں کی گئی بلکہ یک طرفہ دباؤ اور مذمت شامل تھی، اور اس میں ایسی زبان استعمال کی گئی جو غلط تشریح یا غلط استعمال کا باعث بن سکتی ہے۔
فو کانگ نے خبردار کیا کہ اگر یہ قرارداد منظور ہو جاتی تو یہ ایک غلط پیغام دیتی اور اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے تھے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کشیدگی میں مزید اضافے کا خطرہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے اقدامات کا مقصد کشیدگی میں کمی ہونا چاہیے اور انہیں غیر مجاز فوجی کارروائیوں کو قانونی جواز فراہم نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کو ایسے معاملات پر جلد بازی میں ووٹنگ نہیں کرنی چاہیے جہاں ارکان کے درمیان سنجیدہ اختلافات موجود ہوں، اور اسی وجہ سے چین نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔
فو کانگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو کبھی نہیں ہونی چاہیے تھی، اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کا واحد حل فوری جنگ بندی ہے۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو اس تنازع کا آغاز کرنے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف غیر قانونی فوجی کارروائیاں ہی آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کی بنیادی وجہ ہیں۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل سے فوری طور پر اپنی فوجی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ ایران سے بھی کہا کہ وہ خلیج میں تنصیبات پر حملے بند کرے، خلیجی ممالک کے تحفظات کو مدنظر رکھے اور مثبت اقدامات کے ذریعے آبنائے ہرمز میں معمول کی جہاز رانی بحال کرے۔
فو کانگ نے کہا کہ چین نے حالیہ دنوں میں خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے اہم کوششیں کی ہیں اور وہ تمام فریقین کے ساتھ مل کر مزید کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چین اور روس نے مشترکہ طور پر سلامتی کونسل میں ایک نئی قرارداد پیش کی ہے، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی، مذاکرات کا فروغ اور بحری حقوق و آزادیوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے، اور امید ظاہر کی کہ اس قرارداد کو سلامتی کونسل کے ارکان کی حمایت حاصل ہوگی۔














