بیجنگ: چین کے وفد نے 29 تاریخ کو "جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے” کی گیارہویں جائزہ کانفرنس میں کہا کہ سانائے تاکائیچی حکومت کےبرسر اقتدار آنے کے بعد، جاپان کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش اب محض امکان نہیں بلکہ ایک حقیقی خطرہ بن چکی ہے، جو جنگِ عظیم دوم کے بعد قائم عالمی نظام اور جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے سنگین چیلنج ہے۔چینی وفد نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو جاپان کے ایسے منفی رجحانات کے بارے میں انتہائی چوکس رہنا چاہیے۔
جاپان میں بعض حکومتی اہلکاروں کی جانب سے "جوہری ہتھیار رکھنے” کی باتیں کی جا رہی ہیں اور دائیں بازو کی قوتیں "غیر جوہری تین اصولوں” میں ترمیم کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ جاپان کے پاس بڑی مقدار میں پلوٹونیم موجود ہے جو سویلین ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، اور اسے جوہری ہتھیار بنانے کی تکنیکی صلاحیت بھی حاصل ہے، جس کے باعث وہ کم وقت میں جوہری پیش رفت کر سکتا ہے۔ چینی وفد نے مزید کہا کہ جاپان کا مؤقف جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے تضاد کا شکار ہے، کیونکہ ایک طرف وہ خود کو ایٹمی حملوں کا شکار قرار دیتا ہے جبکہ دوسری جانب اپنے اتحادی ممالک کے جوہری ہتھیار اپنی سرزمین پر لانے کے لیے بے چین ہے ۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں امریکہ نے اینٹی بیلسٹک میزائل معاہدہ، انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز معاہدہ اور اوپن اسکائیز معاہدہ جیسے اہم اسلحہ کنٹرول معاہدوں سے علیحدگی اختیار کی، جبکہ”نیو اسٹرٹیجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی” کو بھی غیر مؤثر ہونے دیا، جس سے عالمی سلامتی اور اسلحہ کنٹرول کے نظام کو نقصان پہنچا۔
چینی وفد کے مطابق امریکہ ایٹمی ہتھیاروں کے کنٹرول اور اسٹریٹجک استحکام کے شعبے میں عدم استحکام کا سب سے بڑا سبب بن چکا ہے۔













