لاہور: چین کے نئے تعینات ہونے والے قونصل جنرل سن یان نے زراعت ہاؤس لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی، سیکرٹری زراعت افتخار علی سہو اور سیکرٹری لائیو اسٹاک احمد عزیز تارڑ سے ملاقات کی
ملاقات کے دوران زرعی شعبے کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور پاکستان و چین کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے اس موقع پر بتایا کہ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کے تحت کسانوں کو 250 ارب روپے سے زائد کے بلاسود قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسان کارڈ کے ذریعے 8 لاکھ کاشتکار مستفید ہو رہے ہیں جبکہ زرعی میکانائزیشن کے فروغ کے لیے 66 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کسانوں کی سہولت کے لیے 4 ایگری مالز فعال ہیں اور مزید 10 زیر تعمیر ہیں۔انہوں نے فروزن میٹ کی برآمدات میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے چین کے تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منہ کھر کی بیماری سے پاک جانوروں کے لیے 8 کمپارٹمنٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔
سیکرٹری زراعت افتخار علی سہو نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورہ چین کے دوران مختلف مینوفیکچرنگ پلانٹس کا جائزہ لیا گیا، جبکہ اکتوبر 2025 میں محکمہ زراعت کے وفد نے چین کا کامیاب دورہ کیا، جس میں 7 اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں پر عملدرآمد جاری ہے اور اس سلسلے میں قونصلیٹ جنرل لاہور کے تعاون کی ضرورت ہے، خصوصاً کپاس کے بیج پر تحقیق کے لیے چینی معاونت اہم ہے۔چینی قونصل جنرل سن یان نے یقین دہانی کرائی کہ زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چینی ماہرین تکنیکی معاونت فراہم کریں گے اور سمارٹ ایگریکلچر کے فروغ کے لیے مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔














