اطلاعات کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں میں ایران کے اراک ہیوی واٹر پلانٹ، خونداب ہیوی واٹر ری ایکٹر، اردکان یلو کیک پروسیسنگ پلانٹ اور بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ سمیت دیگر مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی فوج مبینہ طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ضبط کرنے اور اسے منتقل کرنے کے لیے مشقیں بھی کر رہی ہے۔
31 مارچ کو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں اس حوالے سے کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے تحفظ اور نگرانی میں موجود پرامن جوہری تنصیبات پر مسلح حملے اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اورآئی اے ای اے کے قواعد کی خلاف ورزی ہیں اور بین الاقوامی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ چین اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق معاہدے کی 11ویں جائزہ کانفرنس منعقد ہونے والی ہے۔ چین تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت اورمذاکرات کے ذریعے ایرانی جوہری مسئلے کے حل کی حمایت جاری رکھنے کے لئے تیار ہے تاکہ بین الاقوامی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کا صحیح معنوں میں تحفظ کیا جائے اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو فروغ دیا جائے۔














