بیجنگ: چین کی اسٹیٹ کونسل کے دفتر امور تائیوان کی معمول کی پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے حالیہ دنوں میں کچھ تائیوانی شہری گروپس کے شیامین-جن مین برج اور شیامین ہوائی اڈے کی تعمیراتی سائٹ کے دورے کے حوالے سے سوال کیا، جنہیں مین لینڈ کی بنیادی ڈھانچے کی تعمیراتی صلاحیت سے متاثر ہوئے۔
ترجمان چو فنگ لیان نے کہا کہ پرامن وحدت تائیوان کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ایک نیا نقطہ آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مین لینڈ کی مضبوط انفراسٹرکچر تعمیراتی صلاحیت تائیوان کے انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے بھرپور حمایت فراہم کرے گی۔ تائیوان میں ٹرانسپورٹ، توانائی، زراعت، جنگلات، آبی وسائل اور شہری ترقی سمیت مختلف شعبوں کے بنیادی ڈھانچے کی ازسرِ نو تعمیر اور بہتری عمل میں آئے گی، جس سے تائیوان کے ہم وطنوں کی زندگی مزید آسان ہو جائے گی۔
چو فنگ لیان نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان میں تیز رفتار ریلوے نظام جلد قائم کیا جا سکتا ہے، مزید ہائی ویز تعمیر کی جا سکتی ہیں، اور دونوں کناروں کے بنیادی ڈھانچے کا باہمی ربط حقیقت بن جائے گا۔ اسی طرح آبنائے کے پار تیز رفتار راہداری بھی مشترکہ طور پر تعمیر کی جا سکتی ہے، جس کے بعد تائیوان کے ہم وطن ہائی ویز کے ذریعے تائیوان سے بیجنگ تک سفر کر سکیں گے۔
پریس کانفرنس میں امریکی انٹیلی جنس اداروں کی ایک رپورٹ کے بارے میں بھی پوچھا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ چین وحدت کے لیے غیر عسکری ذرائع کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اپنی فوجی تیاریوں کو بھی مسلسل مضبوط بنا رہا ہے اور وحدت کو 2049 تک قومی نشاۃِ الثانیہ کے لیے اہم شرط قرار دیتا ہے۔
اس پر ترجمان چو فنگ لیان نے جواب دیا کہ تائیوان چین کا حصہ ہے اور امور تائیوان کا حل چین کا اندرونی معاملہ ہے، جس میں کسی بیرونی قوت کی مداخلت قابل قبول نہیں۔














