اسلام آباد( گوادر پرو) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے پیر کو اعلان کیا کہ 885 پاکستانی زرعی پیشہ ور افراد نے چین کی معروف جامعات میں جدید اور جامع تربیت مکمل کر لی ہے اور وہ ملک کے زرعی شعبے کو جدید بنانے میں کردار ادا کرنے کے لیے "ماسٹر ٹرینرز” کی حیثیت سے وطن واپس آ گئے ہیں۔مسابقتی اور سخت انتخابی عمل کے ذریعے منتخب کیے گئے اس گروپ نے مصنوعی ذہانت پر مبنی زراعت، ڈرون ٹیکنالوجی، جدید بیجوں کی پیداوار اور آبی نظم و نسق کے نظام سمیت مختلف شعبوں میں خصوصی تربیت حاصل کی۔
ایچ ای سی نے واپسی پر شرکاء کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے بعد جاری بیان میں کہاہمیں یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ 885 پاکستانی زرعی پیشہ ور افراد نے چین کی ممتاز جامعات میں جدید اور جامع تربیت کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیاسخت انتخابی عمل کے ذریعے منتخب کیا گیا یہ گروپ اب ’ماسٹر ٹرینرز‘ کی حیثیت سے وطن واپس پہنچ گیا، جو مقامی زرعی منظرنامے میں انقلاب برپا کرنے کے لیے تیار ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی کاشتکاری اور ڈرون ٹیکنالوجی سے لے کر جدید بیجوں کی پیداوار اور آبی وسائل کے انتظام تک، یہ ماہرین ایسی جدید مہارتوں سے لیس ہیں جو قومی سطح پر پیداوار اور غذائی تحفظ میں اضافے کے لیے ناگزیر ہیں۔یہ اقدام وزیر اعظم کے استعداد کار میں اضافے کے پروگرام کے تحت ایچ ای سی نے عمل میں لایا، جس کا مقصد معیشت کے اہم شعبوں میں انسانی وسائل کی ترقی کو مضبوط بنانا ہے۔
ایچ ای سی کے مطابق اس پروگرام کا مقصد نہ صرف تکنیکی مہارتوں کو بہتر بنانا ہے بلکہ پاکستانی اور چینی اداروں کے درمیان طویل المدتی تعلیمی اور تحقیقی روابط قائم کرنا بھی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ وزیر اعظم کے استعداد کار پروگرام کے تحت ایچ ای سی کی جانب سے شروع کیا گیا یہ تاریخی اقدام پاکستان اور چین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرتا ہے اور ہمارے دیہی شعبوں میں پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار کرے گا ۔
زراعت 2025 تا 2029 کے اس ایکشن پلان کا اہم ستون ہے جس کا مقصد نئے دور میں چین-پاکستان مشترکہ مستقبل کی مزید مضبوط شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔ اس منصوبے پر وزیر اعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران، صدر شی جن پنگ کی دعوت پر، دونوں ممالک کے درمیان اتفاق کیا گیا تھا۔اس منصوبے میں فصلوں کی کاشت، لائیو اسٹاک، پودوں اور جانوروں کی بیماریوں کی روک تھام و کنٹرول، آبی زراعت، زرعی پراسیسنگ، مشینی کاشتکاری، بیج ٹیکنالوجی اور ڈرپ آبپاشی سمیت زرعی تحقیق اور سی پیک کے تحت ماہرین کے تبادلوں میں تعاون کو ترجیح دی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ استعداد کار میں اضافے پر بھی زور دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہےکہ چین میں ایک ہزار نوجوان پاکستانی زرعی پیشہ ور افراد کی تربیت کے تاریخی منصوبے کو جاری رکھا جائے گا














