پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر ایک علاقائی کانفرنس "ASEAN سے پاکستان کے راستے” کے عنوان سے منعقد کی تاکہ سولر فوٹووولٹائک (PV) مینوفیکچرنگ میں چینی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
اس تقریب میں پالیسی ساز، صنعت کے ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی تاکہ ASEAN کے سولر مینوفیکچرنگ تجربات کو پاکستان کے لیے عملی حکمت عملی میں تبدیل کیا جا سکے۔کانفرنس کے مقررین نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی سولر درآمدات، توانائی کی سیکورٹی کی اہمیت، اور ایسے قابل عمل مینوفیکچرنگ منصوبوں کی ضرورت پر زور دیا جو واضح پالیسیوں، تیار شدہ خصوصی اقتصادی زونز (SEZs)، اور قابل اعتماد عمل درآمد سے معاونت حاصل کریں۔ تقریب میں صنعتی اہداف اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے درمیان توازن قائم کرنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی تاکہ پاکستان کے سولر سیکٹر میں چینی سرمایہ کاری مستقل بنیادوں پر برقرار رہ سکے۔
سرکاری اہلکاروں نے بتایا کہ پاکستان کی سولر صلاحیت اب یوٹیلیٹی بجلی کا 25 فیصد سے زیادہ فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا نہ صرف درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے ضروری ہے بلکہ ملکی قدر برقرار رکھنے اور مستقبل میں قابل تجدید توانائی کے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے بھی اہم ہے۔














