اسلام آباد: چین اور پاکستان کے درمیان دوستی اور باہمی ہمدردی کی ایک خوبصورت مثال قائم کرتے ہوئے چینی۔پاکستانی فلاحی اقدام کے تحت ماہِ رمضان 2026 کے دوران ملک بھر میں ایک ماہ پر مشتمل “کیرنگ کچن” پروگرام شروع کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے روزانہ سینکڑوں مستحق خاندانوں کو افطار فراہم کی جا رہی ہے۔یہ اقدام چائنا پاکستان یوتھ ایکسچینج کمیونٹی (CPYEC) کی جانب سے بیجنگ ون ہارٹ اسفیئر چیریٹی فاؤنڈیشن اور چینی رضاکار گروپ “باؤنڈ لیس لو” کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔ اس وقت اسلام آباد، گوجرانوالہ، گلگت اور آزاد کشمیر میں روزانہ 200 سے 300 پکا ہوا افطار کھانا مستحق افراد تک پہنچایا جا رہا ہے۔
پروگرام کے سربراہ ما بن نے بتایا کہ رمضان کی یہ مہم دراصل آٹھ برس قبل شروع ہونے والی فلاحی سرگرمیوں کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق، “جو کام چھوٹے پیمانے پر کھانے کی تقسیم سے شروع ہوا تھا، وہ آج دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی اور باہمی خیال رکھنے کی ایک مضبوط تحریک بن چکا ہے۔”وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رضاکاروں نے صرف پکے ہوئے کھانے تک محدود رہنے کے بجائے اسٹار اسکول کے طلبہ کے لیے راشن پیکجز بھی فراہم کیے۔
ان پیکجز میں آٹا، چاول، گھی/کوکنگ آئل اور دالیں شامل ہیں تاکہ رمضان المبارک کے دوران طلبہ کی غذائی ضروریات پوری کی جا سکیں۔سی پی وائی ای سی گزشتہ 13 برسوں سے پاکستان کے مختلف شہروں بشمول اسلام آباد، لاہور، دادو، گوجرانوالہ، گلگت اور کوئٹہ میں فلاحی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہے۔ تنظیم کی سابقہ کاوشوں میں یتیم بچوں کی کفالت، بزرگ مریضوں کے لیے موتیا کے آپریشن، مستحق بچوں میں جوتوں کی تقسیم اور سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی فراہمی شامل ہیں۔
منتظمین کے مطابق رمضان کے بابرکت مہینے میں کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کے زیرِ اہتمام علاقوں میں کوئی بھی مستحق خاندان افطار سے محروم نہ رہے۔ اسی سلسلے میں آئندہ چند روز میں کوئٹہ میں دس روزہ عارضی کچن قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ “کیرنگ کچن” نہ صرف ضرورت مندوں کی مدد کا ذریعہ ہے بلکہ یہ رمضان کے پیغامِ ایثار و ہمدردی اور چین۔پاکستان دوستی کے مضبوط رشتے کی عملی تصویر بھی پیش کرتا ہے۔














