بیجنگ: چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اکسٹھویں اجلاس کے تحت منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کو مزید مؤثر اور منصفانہ بنانے پر زور دیا ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن وانگ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو کو 150 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اس اقدام کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے نصب العین کی صحت مند ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔وانگ ای نے عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کے فروغ کے لیے پانچ نکاتی تجاویز بھی پیش کیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلی تجویز کے تحت خودمختاری کے مساوی اصول پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ تمام ممالک مساوی شرکت، مساوی فیصلہ سازی اور مساوی فوائد حاصل کر سکیں اور ایک منصفانہ اور جامع عالمی انسانی حقوق کا نظام تشکیل دیا جا سکے۔
دوسری تجویز میں انہوں نے بین الاقوامی قانون کی حکمرانی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک کو ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول کا احترام کرنا چاہیے۔
تیسری تجویز کے طور پر انہوں نے کثیرالجہتی نظام کو عملی طور پر نافذ کرنے اور عالمی انسانی حقوق کو درپیش چیلنجوں سے مشترکہ طور پر نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔چوتھی تجویز میں وانگ ای نے عوام کو مرکز بنانے کے تصور کو فروغ دینے اور ترقی کے حق کو انسانی حقوق کے ایجنڈے میں نمایاں مقام دینے کی بات کی۔
پانچویں اور آخری نکتے میں انہوں نے عمل پر مبنی نقطہ نظر اختیار کرنے اور عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کے عملی اثرات میں اضافہ کرنے پر زور دیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین تمام ممالک کے ساتھ مل کر بنی نوع انسان کی مشترکہ اقدار کو فروغ دینے، مشترکہ مستقبل کے حامل عالمی معاشرے کی تعمیر اور انسانی حقوق کی تہذیب کی ترقی کے لیے تعاون جاری رکھے گا تاکہ پوری دنیا اس سے مستفید ہو سکے۔














