بیجنگ: چینی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ چین اور امریکہ اقتصادی و تجارتی مشاورت کے طریقۂ کار کے تحت مختلف سطحوں پر مسلسل رابطے میں ہیں اور دونوں ممالک چھٹے دور کے مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بدھ کے روز 26 فروری کو منعقدہ معمول کی پریس کانفرنس میں وزارت تجارت کی ترجمان حہ یونگ چھیان نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین اس بات کا خواہاں ہے کہ امریکہ کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے صدور کے درمیان بوسان میں ہونے والی ملاقات اور 4 فروری کی ٹیلیفونک گفتگو میں طے پانے والے اتفاقِ رائے پر مؤثر اور مستقل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ترجمان نے زور دے کر کہا کہ چین مساوی اور باہمی احترام پر مبنی مشاورت کے ذریعے اختلافات کو مناسب انداز میں قابو میں رکھنے اور عملی تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔
ان کے مطابق چین۔امریکہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کی صحت مند، مستحکم اور پائیدار ترقی نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہے بلکہ اس سے عالمی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
ایک اور سوال کے جواب میں حہ یونگ چھیان نے بتایا کہ چین نے 24 فروری کو جاپان سے متعلق بعض اداروں کو برآمدی کنٹرول کی پابندیوں اور نگرانی کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ ان کے بقول اس اقدام کا مقصد جاپان کی مبینہ "دوبارہ عسکریت” اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں کو روکنا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر جائز، معقول اور قانونی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔














