اسلام آباد(گوادر پرو) چین اور پاکستان کے تکنیکی تعاون کی حدود اب توانائی اور انفراسٹرکچر سے آگے بڑھ کر پائیدار شہری ترقی تک پھیل گئی ہیں، کیونکہ سی ڈی اے حکام نے وفاقی دارالحکومت کو ماڈل گرین سٹی میں تبدیل کرنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ نیٹ ورکس اور جدید تعمیراتی ٹیکنالوجیز پر چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے منگل کی سہ پہر کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی میزبانی کی، جس میں چینی سرمایہ کاروں کی ایک وفد نے شرکت کی تاکہ الیکٹرک موبلٹی انفراسٹرکچر، جدید ہاؤسنگ حل، اور ماحولیاتی طور پر پائیدار شہری ٹیکنالوجیز میں تعاون کے امکانات پر بات چیت کی جا سکے۔
یہ پاکستان کی چین کے گرین ڈیولپمنٹ کے تجربات کے ساتھ بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔اجلاس میں شہر بھر میں الیکٹرک گاڑیوں (EV) کے چارجنگ ایکو سسٹم کی ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی ، جو اسلام آباد کے صاف ستھری نقل و حمل کی طرف منتقلی کی حمایت کرے گا۔ حکام نے حال ہی میں متعارف کرائے گئے ریگولیٹری فریم ورک کو اجاگر کیا، جو نجی سرمایہ کاری کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ طویل مدتی عملی صلاحیت کو یقینی بناے گا۔
رندھاوا نے کہا کہ اسلام آباد چینی کمپنیوں کے لیے ای وی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے، اور بتایا کہ سی ڈی اے نے پہلے ہی ریگولیٹری گائیڈ لائنز اور نفاذ کے میکانزم قائم کر دیے ہیں تاکہ تعیناتی میں سہولت ہو۔ یہ اقدام پاکستان کی وسیع موسمیاتی ذمہ داریوں کے مطابق ہے اور دنیا بھر میں چینی صاف موبلٹی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈاکٹر خالد حفیظ نے وضاحت کی کہ اپ ڈیٹ شدہ بلڈنگ قوانین کے تحت اب کمرشل ڈویلپمنٹ کے لیے لازمی ہے کہ وہ کم از کم تین فیصد جگہ ای وی چارجنگ کی سہولیات کے لیے مختص کریں، جس سے الیکٹرک موبلٹی کی منصوبہ بندی براہِ راست شہری ڈیزائن معیار میں شامل ہو جائے۔ اس کے علاوہ، دارالحکومت کے تقریباً تمام 138 فیول اسٹیشنز میں چارجنگ انفراسٹرکچر لازمی ہو جائے گا، موجودہ اسٹیشنز کو کم از کم ایک چارجنگ پوائنٹ نصب کرنا ہوگا اور نئے اسٹیشنز کے لیے دو پوائنٹس قائم کرنا ضروری ہوگا۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد میں اسٹریٹیجک مقامات پر مخصوص ای وی چارجنگ ہب بنانے کے منصوبے ہیں، تاکہ رینج اینزائٹی کم کی جا سکے اور عوام کو الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے حل اپنانے کی ترغیب ملے۔چینی وفد نے پاکستان کے ابھرتی ہوئی ای وی مارکیٹ میں دلچسپی ظاہر کی اور چارجنگ سسٹمز اور سمارٹ انفراسٹرکچر انٹیگریشن ٹیکنالوجیکل حل پیش کیے۔
مباحثے میں ایسے تعاون کے ماڈلز پر زور دیا گیا جو سرمایہ کاری کے ساتھ ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مقامی صلاحیت کی ترقی کو یکجا کریں۔موبلٹی کے علاوہ اجلاس میں جدید ہاؤسنگ ٹیکنالوجیز، خاص طور پر 3D پرنٹڈ تعمیراتی طریقوں پر بھی بات ہوئی، جو تیز، کم لاگت اور ماحولیاتی طور پر پائیدار ہاؤسنگ فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔
چینی نمائندگان نے اس ٹیکنالوجی کے عالمی اطلاق کی تفصیل پیش کی، جس میں تعمیراتی فضلہ میں کمی، کم لاگت، اور پروجیکٹ کی رفتار میں تیزی کو اجاگر کیا گیا۔چیئرمین رندھاوا نے زور دیا کہ مستقبل کی شہری توسیع میں جدید تعمیراتی سلوشن شامل ہونا چاہیے جو ہاؤسنگ کی مانگ کو پورا کرنے کے ساتھ ماحولیاتی اثرات کو کم کرے۔ ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مقامی مہارت کی ترقی ممکنہ تعاون کے اہم مقاصد کے طور پر شناخت کی گئی۔
اجلاس میں الیکٹرک بائیکس اور سکوٹروں کو ایک مربوط شہری موبلٹی حکمت عملی کے حصے کے طور پر متعارف کرانے کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے ماحول دوست اضافی اقدامات پر بھی بات کی، جن میں الیکٹرک ٹرام سسٹمز کی ڈویلپمنٹ شامل ہے، تاکہ تیزی سے بڑھتے ہوئے دارالحکومت میں ٹریفک اور آلودگی کم کی جا سکے














