جنیوا (گلوبل ٹائمز) — چین نے امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ خفیہ طور پر جوہری تجربات کر رہا ہے۔ چین کے سفیر برائے تخفیف اسلحہ شین جیان نے کہا ہے کہ یہ الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور دراصل امریکہ کی جانب سے اپنے ممکنہ جوہری تجربات کی بحالی کے جواز کے طور پر گھڑے گئے ہیں۔پیر کے روز جنیوا میں تخفیف اسلحہ سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شین جیان نے کہا کہ چین جامع ایٹمی تجربات کی ممانعت کے معاہدے (CTBT) کے مقاصد اور اصولوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ پانچ جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے اس عزم کی توثیق کرے جس کے تحت جوہری تجربات پر عائد پابندی (مورٹوریم) کو برقرار رکھا جائے اور عالمی سطح پر جوہری تجربات کی ممانعت سے متعلق اتفاقِ رائے کا احترام کیا جائے۔
چینی سفیر کا کہنا تھا کہ موجودہ پیچیدہ اور سنگین عالمی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں چین اسلحہ کنٹرول کے ایسے فلسفے پر کاربند ہے جو منصفانہ، باہمی تعاون پر مبنی، متوازن اور مؤثر ہو۔ انہوں نے کہا کہ چین بین الاقوامی سلامتی کے تعاون کو مضبوط بنانے اور عالمی سلامتی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول عالمی تزویراتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ جوہری تخفیف اسلحہ کے معاملے میں منصفانہ، معقول، دانشمندانہ اور عملی رویہ اختیار کرے، عدم پھیلاؤ کے مسائل کو سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کرے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے اور کثیرالجہتی اسلحہ کنٹرول اور تخفیف اسلحہ کے نظام کو دوبارہ فعال بنائے۔دوسری جانب برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق امریکہ نے رواں ماہ نیو اسٹریٹجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی (نیو اسٹارٹ) کی مدت ختم ہونے کے بعد یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ ایک “بہتر معاہدہ” کرنا چاہتا ہے جس میں چین کو بھی شامل کیا جائے۔اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے 11 فروری کو پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ چین متعدد مواقع پر اپنا مؤقف واضح کر چکا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ، روس کے ساتھ تزویراتی استحکام سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کرے اور معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد کے انتظامات پر بات چیت کرے، کیونکہ عالمی برادری بھی یہی چاہتی ہے۔














