بیجنگ (رائٹرز) – چین نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہر سطح پر رابطے اور مکالمے کو فروغ دینے کا خواہاں ہے، تاہم اپنی “ریڈ لائنز” اور اصولی مؤقف پر مضبوطی سے قائم رہے گا۔
چین کی پارلیمنٹ کے ترجمان لوو چِن جیان نے بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنانے کے لیے کام کرنے کو تیار ہے، لیکن خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین کی اعلیٰ قانون ساز باڈی National People’s Congress کا سالانہ اجلاس جمعرات کو شروع ہو رہا ہے، جس میں رواں سال کے اقتصادی اہداف اور پالیسی ترجیحات کا اعلان کیا جائے گا۔
چین اور امریکہ کے تعلقات ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے رہنماؤں، امریکی اور چینی صدر کے درمیان مارچ کے اختتام پر بیجنگ میں متوقع سربراہی ملاقات کی تیاری جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ملاقات دوطرفہ تعلقات کو استحکام دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔لوو چِن جیان نے کہا کہ چین اور امریکہ کو ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سربراہانِ مملکت کے درمیان سفارت کاری دونوں ممالک کے تعلقات کی رہنمائی میں “ناقابلِ تلافی اسٹریٹجک کردار” ادا کرتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو تعاون کے شعبوں میں اضافہ اور اختلافی امور میں کمی لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے امریکی کانگریس پر زور دیا کہ وہ چین کو “معروضی انداز” میں دیکھے اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کا دورہ کریں گے، تاہم بیجنگ کی جانب سے تاحال اس دورے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار آئندہ ہفتے پیرس میں ملاقات کریں گے، جہاں ممکنہ کاروباری معاہدوں پر بات چیت کی جائے گی۔ یہ ملاقات متوقع سربراہی اجلاس سے قبل اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔














