واشنگٹن، 18 فروری: چین نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ چین کے خلاف بے بنیاد دعوے کر کے اپنے جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کے لیے ماحول ہموار کرنا چاہتی ہے۔
تاس کے مطابق واشنگٹن میں تعینات چینی سفارتخانے کے ترجمان لیو پینگیو نے کہا کہ چین امریکا کی جانب سے جوہری تجربات کی بحالی کے لیے کسی بھی قسم کا جواز تراشنے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ یہ بیان امریکی معاون وزیر خارجہ برائے اسلحہ کنٹرول و عدم پھیلاؤ کرسٹوفر ای کے ان الزامات کے ردعمل میں سامنے آیا، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چین نے حالیہ برسوں کے دوران دھماکہ خیز جوہری تجربات کیے ہیں۔
لیو پینگیو نے کہا کہ ایک بڑے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کے حامل ملک کی حیثیت سے امریکا پر لازم ہے کہ وہ جوہری تخفیفِ اسلحہ کے حوالے سے اپنی خصوصی اور بنیادی ذمہ داری پوری کرے، جو عالمی برادری کا متفقہ مؤقف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین امریکا پر زور دیتا ہے کہ وہ پانچ جوہری طاقتوں کے جوہری تجربات سے گریز کے عزم کی پاسداری کرے، عالمی اتفاقِ رائے کو برقرار رکھے اور بین الاقوامی جوہری تخفیفِ اسلحہ اور عدم پھیلاؤ کے نظام کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھائے۔














