شی جن پنگ نے کہا ہے کہ حالات جیسے بھی ارتقا پذیر ہوں، چین اور امریکا کے عوام کے درمیان تبادلوں اور تعاون کی خواہش میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔چینی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر شی جن پنگ نے امریکی ریاست Iowa کے اپنے پرانے دوستوں کے خط کا جواب دیتے ہوئے انہیں چینی نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
صدر شی نے 41 برس قبل آئیووا کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت انہیں جس گرمجوشی سے خوش آمدید کہا گیا، وہ یادیں آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین۔امریکا تعلقات کی امید عوام سے وابستہ ہے، اس کی بنیاد معاشروں میں ہے، اس کا مستقبل نوجوانوں سے جڑا ہے اور اس کی توانائی ذیلی سطح پر ہونے والے تبادلوں سے آتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے نوجوانوں کے درمیان باہمی افہام و تفہیم اور دوستی کے رشتے بھی برقرار رہیں گے۔صدر شی جن پنگ نے امید ظاہر کی کہ امریکی دوست دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اور مزید نوجوانوں کو چین۔امریکا دوستی کا امین اور امن و خیرسگالی کا پیامبر بننے کی ترغیب دیں گے تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
اس سے قبل لوکا بیرونی نے آئیووا کے دوستوں کی جانب سے صدر شی کو خط لکھ کر چینی نئے سال کی مبارکباد دی تھی۔ خط میں کہا گیا کہ آئیووا کے دوست چینی عوام کے ساتھ اپنی دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسے آئندہ بھی فروغ دیتے رہیں گے۔
لوکا بیرونی، سارہ لینڈے، گیری ڈورچیک، رک کمبرلے، چین میں سابق امریکی سفیر ٹیری برانسٹڈ اور ورلڈ فوڈ پرائز فاؤنڈیشن کے صدر ایمریٹس کینتھ کوئن سمیت دیگر افراد نے بھی صدر شی اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کو نئے سال کا تہنیتی کارڈ ارسال کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تبادلوں کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔














