چین نے چھٹی جنریشن کی موبائل ٹیکنالوجی (6G) کے تکنیکی آزمائشی تجربات کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
یہ بات چین کی وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بدھ کے روز بتائی۔
وزارت کے مطابق 6G ٹرائلز کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا جا چکا ہے، جس کے دوران 300 سے زائد کلیدی 6G ٹیکنالوجیز کو محفوظ کیا گیا، جو آئندہ تحقیق اور تجارتی استعمال کے لیے بنیاد فراہم کریں گی۔
دنیا کا سب سے بڑا انفارمیشن انفراسٹرکچر
وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترجمان شے سُن (Xie Cun) نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ چین اس وقت دنیا کا سب سے بڑا انفارمیشن انفراسٹرکچر قائم کر چکا ہے۔ ان کے مطابق چین میں 5G بیس اسٹیشنز کی تعداد 48 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ 5G صارفین کی تعداد 1.2 ارب سے زائد ہو گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار چین کی ڈیجیٹل اور ٹیلی کمیونیکیشن ترقی کی رفتار کو ظاہر کرتے ہیں۔
6G کی جانب تیز رفتار پیش رفت
حکام کے مطابق دوسرے مرحلے کے 6G ٹرائلز میں نیٹ ورک آرکیٹیکچر، انتہائی تیز رفتار ڈیٹا ٹرانسمیشن، کم تاخیر (Ultra-low latency) اور مستقبل کی اسمارٹ ایپلیکیشنز پر توجہ دی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے 6G پر تیزی سے پیش رفت مستقبل کی عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اس کے کردار کو مزید مضبوط کر سکتی ہے۔














