بیجنگ: چین کے دارالحکومت بیجنگ کی سال 2025 میں مجموعی مقامی پیداوار (جی ڈی پی) 5.2 ٹریلین یوآن (746.7 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی جو 2024 کے مقابلے میں 5.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ ڈیلی چائنہ کے مطابق یہ بات بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں بتائی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق بیجنگ شنگھائی کے بعد چین کا دوسرا شہر بن گیا ہے جس کا معاشی حجم 5 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا ہے۔
اہم معاشی محرکات میں کمپیوٹرز، مواصلاتی آلات اور دیگر الیکٹرانک سازوسامان کی تیاری کی مشترکہ شرح نمو سال بہ سال 20.2 فیصد رہی جبکہ آٹوموٹیو صنعت میں سال بہ سال 17.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔خصوصی طور پر نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں، صارف الیکٹرانکس اور انٹیگریٹڈ سرکٹس اس شعبے میں نمایاں رہے۔
نئی توانائی والی گاڑیوں، لیتھیم آئن بیٹریوں، سروس روبوٹس اور ونڈ ٹربائنز کی صنعتی پیداوار میں بالترتیب سال بہ سال 1.4 گنا، 1.2 گنا، 47.6 فیصد اور 21.6 فیصد اضافہ ہوا۔
شہر کے بڑے صنعتی اداروں کی برآمدی ترسیلی مالیت گزشتہ سال 211.3 ارب یوآن تک پہنچ گئی جو 2024 کے مقابلے میں 6.4 فیصد اضافہ ہے۔ برآمدات میں آٹوموٹیو مینو فیکچرنگ اور خصوصی آلات کی تیاری کے شعبوں نے کلیدی کردار ادا کیا جن میں بالترتیب 24.6 فیصد اور 10.8 فیصد اضافہ ہوا۔سروس سیکٹر میں بھی گزشتہ سال نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی۔ معلوماتی ترسیل، سافٹ ویئر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات کے شعبوں کی مجموعی اضافی قدر 2025 میں 1.2 ٹریلین یوآن رہی جو 11 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی عرصے کے دوران مالیاتی شعبے کی اضافی قدر 866.82 ارب یوآن رہی جس میں سال بہ سال 8.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا














