اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے حوالے سے پھیلنے والی مس انفارمیشن کا مؤثر اور بروقت مقابلہ کرنے کے لیے ایک جامع اور مربوط فیکٹ چیک فورم وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
انہوں نے یہ بات 9ویں سی پیک میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی تاریخی، آزمودہ اور لازوال ہے، جو ہر دور میں مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہر سطح پر مؤثر روابط قائم ہیں اور پاکستان اور چین حقیقی معنوں میں آئرن برادرز ہیں، جس پر دونوں اقوام فخر کرتی ہیں۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاک چین تعلقات محض سفارتی یا معاشی نہیں بلکہ ثقافتی اور عوامی سطح پر بھی گہرے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چین کے شہری اردو جبکہ پاکستان کے شہری چینی زبان سیکھ رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے ثقافتی روابط کا مظہر ہے۔
سی پیک سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سی پیک ایک گیم چینجر منصوبہ ہے جس کے باعث پاکستان میں توانائی، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک مختلف ممالک کو آپس میں جوڑنے والا منصوبہ ہے جبکہ سی پیک 2.0 پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا ہے تاکہ قومی بیانیے کو جدید تقاضوں کے مطابق دنیا تک پہنچایا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت ڈیجیٹل پاکستان ٹی وی کا آغاز کیا گیا، جو عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کی مؤثر نمائندگی کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا نے پاک بھارت جنگ کے دوران بھی اہم کردار ادا کیا اور پاکستان کے مؤقف کو عالمی برادری تک پہنچانے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سی پیک جیسے اہم منصوبے کے حوالے سے جھوٹی اور گمراہ کن اطلاعات کے تدارک کے لیے فیکٹ چیک فورم کا قیام ناگزیر ہے تاکہ حقائق پر مبنی معلومات عوام اور عالمی میڈیا تک پہنچائی جا سکیں














