بیجنگ (رائٹرز) – چین کی جانب سے جاپان کو دسمبر میں ریئر ارتھ میگنیٹس کی برآمدات نومبر کے مقابلے میں 8 فیصد کم ہو گئیں، جب ایک سفارتی تنازعے نے مارکیٹ میں مستقبل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے تھے۔ یہ خدشات اس وقت اور بڑھ گئے جب بیجنگ نے جنوری میں جاپان کو دوہری استعمال کی اشیاء کی برآمدات پر پابندی عائد کر دی۔ جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا کے سب سے بڑے ریئر ارتھ میگنیٹس پیدا کرنے والے ملک کی گزشتہ ماہ جاپان کو برآمدات 280 میٹرک ٹن رہی، جو نومبر میں 305 ٹن کے ریکارڈ کی چوٹی کے مقابلے میں کم تھی۔
اس کے باوجود، دسمبر میں جاپان کو کی جانے والی برآمدات 2024 کے اسی مہینے کے مقابلے میں 31.4 فیصد زیادہ تھیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ جاپانی خریداروں کی جانب سے ممکنہ مزید چینی پابندیوں کے پیش نظر خریداری بڑھانے کی وجہ سے ہوا۔ جنوری میں فوجی استعمال کی اشیاء پر پابندی کے باعث جاپان کو برآمدات میں کمی متوقع ہے۔یہ پابندی اس کے دو ماہ بعد آئی جب جاپانی وزیر اعظم سناے تاکائچی نے کہا کہ اگر چین تائیوان پر حملہ کرے تو جاپان فوجی طور پر جواب دے گا۔
چین نے اس بیان پر غصہ ظاہر کیا ہے، کیونکہ وہ خود مختار جزیرے پر اپنا حق دعویٰ کرتا ہے، جسے تائیوان مسترد کرتا ہے۔دسمبر کے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ امریکہ کو ریئر ارتھ میگنیٹس کی برآمدات نومبر کے مقابلے میں 3 فیصد کم ہو کر 564 ٹن رہ گئیں۔ 2025 میں امریکہ کو کل 5,933 ٹن برآمد کی گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 20.3 فیصد کمی تھی۔ امریکہ کو برآمدات اس وقت بحال ہوئیں جب صدر ژی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے بعد چین نے بعض برآمدی کنٹرولز عارضی طور پر روک دیے۔مجموعی طور پر، دسمبر میں ریئر ارتھ میگنیٹس کی برآمدات نومبر کے مقابلے میں 3.2 فیصد کم ہو کر 5,952 ٹن ہو گئیں، جو 2025 میں چوتھی سب سے زیادہ ماہانہ مقدار تھی۔ 2025 میں چین نے کل 57,392 ٹن ریئر ارتھ میگنیٹس برآمد کیں، جو سالانہ بنیاد پر 1.3 فیصد کمی ہے














