بیجنگ (ژنہوا) — چین اپنے پہلے آف شور پلیٹ فارم کو عملی طور پر فعال کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جو قابلِ دوبارہ استعمال مائع ایندھن (Liquid-Propellant) راکٹوں کی لانچنگ اور واپسی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خلا تک رسائی کی لاگت میں نمایاں کمی لانا اور چین کی کمرشل خلائی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔یہ نیا ٹیسٹ پلیٹ فارم مشرقی چین کے صوبہ شاندونگ کے شہر ہائی یانگ میں واقع اورینٹل ایرو اسپیس پورٹ میں تعمیر کیا گیا ہے، جو اس وقت چین کا واحد کمرشل سمندری لانچ بیس ہے۔ یہ سہولت اپنی آخری تعمیراتی مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور توقع ہے کہ تقریباً 5 فروری سے آزمائشی آپریشن کے لیے تیار ہو جائے گی۔ چین میڈیا گروپ کی رپورٹ کے مطابق، چینی نئے سال کے موقع پر پہلی مرتبہ ایک کمرشل مائع راکٹ کی سمندری لانچ اور بازیابی کی کوشش کی جائے گی۔یہ پیش رفت چین کی مجموعی خلائی حکمتِ عملی کے عین مطابق ہے، جس کا ایک مرکزی ہدف کمرشل خلائی پرواز کے سب سے بڑے چیلنج — کم لاگت اور بار بار مدار تک رسائی — کو راکٹ کی دوبارہ استعمال کی صلاحیت کے ذریعے حل کرنا ہے۔
شاندونگ کے ساحل سے تقریباً تین کلومیٹر دور ایک مصنوعی جزیرے پر واقع اس پلیٹ فارم پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے، جہاں 150 سے زائد کارکن سرد موسم کے باوجود ویلڈنگ، بھاری آلات کی تنصیب اور مشینری کے تال میل میں مصروف ہیں۔اس ٹیسٹ سہولت کا مرکزی حصہ ایک جدید لانچ اسٹینڈ ہے، جو ہائیڈرولک ایریکٹر سسٹم سے لیس ہے۔ چار بڑے ہائیڈرولک سلنڈر، جو ایک گہرے گڑھے میں نصب ہیں، سیکڑوں ٹن وزنی راکٹوں کو افقی حالت سے عمودی حالت میں کھڑا کریں گے۔ اس کے قریب 17 میٹر گہری شعلہ نالی موجود ہے، جو لانچ کے دوران 3,000 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت والے دھوئیں کو خارج کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ ساتھ ہی ایک واٹر ڈیلیوج سسٹم راکٹ کے شعلوں کو ٹھنڈا کرنے، صوتی دباؤ کم کرنے اور لانچ انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے استعمال ہوگا۔ہائی یانگ اورینٹل ایرو اسپیس پورٹ اب تک 22 کامیاب سمندری لانچز کر چکا ہے، جن کے ذریعے 137 سیٹلائٹس مدار میں بھیجے گئے۔
تاہم، یہ تمام مشنز ٹھوس ایندھن راکٹوں کے ذریعے انجام دیے گئے، جو اگرچہ نقل و حرکت میں آسان ہوتے ہیں مگر کم بوجھ اٹھانے کی صلاحیت اور دوبارہ استعمال نہ ہونے کی وجہ سے محدود سمجھے جاتے ہیں۔نیا پلیٹ فارم مائع ایندھن راکٹوں کے لیے مخصوص ہے، جو زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ دوبارہ استعمال کے قابل ہیں۔ یہ خصوصیت بڑے سیٹلائٹ نیٹ ورکس اور کنسٹیلیشنز کی کم لاگت تعیناتی کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے اور چین کی کمرشل لانچ انڈسٹری کی بنیادی سمت بھی یہی ہے۔یہ پلیٹ فارم ایک وسیع منصوبہ بندی والے زون کا حصہ ہے، جس میں مائع آکسیجن، مائع نائٹروجن، کیروسین اور میتھین کے ذخیرہ کرنے کی سہولیات شامل ہیں۔ یہ تمام سہولتیں اگلی نسل کے مائع راکٹ آپریشنز کے لیے ایندھن بھرنے، دباؤ برقرار رکھنے اور پائپ لائن صفائی جیسے عمل سرانجام دیں گی۔شاندونگ صوبہ تیزی سے ایک جامع خلائی ماحولیاتی نظام کی شکل اختیار کر رہا ہے، جہاں لانچ سروسز، راکٹ سازی اور سیٹلائٹ ایپلیکیشنز جیسے شعبے یان تائی، جنان اور چنگ ڈاؤ جیسے شہروں تک پھیل چکے ہیں۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ چین نے نومبر 2025 میں 2025 تا 2027 کے لیے ایک تین سالہ ایکشن پلان متعارف کرایا تھا، جس کا مقصد کمرشل خلائی شعبے کی محفوظ اور اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینا اور اسے قومی خلائی حکمتِ عملی کا حصہ بنانا ہے۔
چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کے مطابق، 2025 میں چین کے کمرشل خلائی شعبے نے تیز رفتار ترقی برقرار رکھی، جس دوران مجموعی طور پر 50 لانچز مکمل کی گئیں۔ یہ لانچز ملک کی مجموعی خلائی سرگرمیوں کا 54 فیصد تھیں، جن میں سے 25 کمرشل لانچ وہیکلز کے ذریعے انجام دی گئیں۔ گزشتہ سال چین نے 311 کمرشل سیٹلائٹس مدار میں بھیجے، جو 2025 میں لانچ ہونے والے تمام چینی سیٹلائٹس کا 84 فیصد بنتے ہیں۔














