بیجنگ (رائٹرز): چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا موقع دیکھ لیا ہے اور وہ عالمی تجارتی نظام کو اس انداز میں ازسرِنو تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کی 19 کھرب ڈالر مالیت کی معیشت مستقبل میں امریکی دباؤ سے محفوظ رہ سکے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بیجنگ، ٹرمپ کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی وسیع صنعتی و مینوفیکچرنگ صلاحیت کو دنیا کے بڑے معاشی بلاکس کے ساتھ جوڑنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ ان بلاکس میں یورپی یونین، خلیجی ریاستیں اور ٹرانس پیسفک تجارتی معاہدہ شامل ہیں۔چین تقریباً 20 تجارتی معاہدوں کو حتمی شکل دینے کی کوششیں تیز کر چکا ہے، جن پر کئی برسوں سے کام جاری تھا۔ اگرچہ چین کو زائد پیداوار، غیر مساوی منڈی تک رسائی اور کمزور داخلی طلب جیسے مسائل کا سامنا ہے، تاہم پالیسی ساز طویل المدتی عالمی برتری کو ترجیح دے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2017 کے بعد شائع ہونے والے تقریباً 100 چینی زبان کے مضامین کا جائزہ لیا گیا، جو سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والے ماہرینِ تجارت نے تحریر کیے۔ یہ مضامین Chinese Academy of Social Sciences اور Peking University جیسے اداروں کی توثیق سے شائع ہوئے، جو اعلیٰ قیادت کو پالیسی مشورے فراہم کرتے ہیں۔ ان تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین نے امریکی تجارتی حکمت عملی کا باریک بینی سے تجزیہ کر کے اس کا توڑ تیار کیا۔چین اب اس منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ جنوری میں کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے دورۂ بیجنگ کے دوران طے پانے والے معاہدے کے تحت چینی الیکٹرک گاڑیوں پر عائد ٹیرف میں نمایاں کمی کی گئی۔ حکام کے مطابق یہ امریکی اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی جانب پہلا قدم ہے اور ایسے مزید معاہدے متوقع ہیں۔ایک چینی عہدیدار نے ٹرمپ کی تجارتی حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، “اپنے مخالف کو اس وقت مت روکو جب وہ خود غلطی کر رہا ہو”، جس سے بیجنگ کے اعتماد کا اندازہ ہوتا ہے۔مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بیجنگ اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ ایک نئے کثیرالجہتی تجارتی نظام کے مرکز میں آ جائے گا، جو چین کے مفادات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہوگا۔ برسلز میں قائم تھنک ٹینک Bruegel سے وابستہ سینئر فیلو الیشیا گارشیا ہیررو کے مطابق “چین کے پاس اس وقت سنہری موقع موجود ہے۔”امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بڑے تجارتی سرپلس رکھنے والے ممالک کا عالمگیریت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنا حیران کن نہیں۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ ان مسائل کو درست کر رہے ہیں جو عالمگیریت نے امریکہ کے لیے پیدا کیے، جبکہ دیگر ممالک آزاد منڈی تک رسائی محدود ہونے کے بعد عالمگیریت کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔
**تجارتی بلاکس کی تشکیل**
چین کے بیانیے میں حالیہ تبدیلی اس کی نئی حکمت عملی کا عکاس ہے۔ ایک سال قبل بیجنگ مغرب کے مقابلے میں اپنی مزاحمتی تاریخ کا حوالہ دے رہا تھا، تاہم اب اپریل میں متوقع ٹرمپ کے دورۂ چین سے قبل چینی سفارت کار دنیا بھر میں سرگرم ہیں اور شراکت داروں سے کثیرالجہتی نظام اور آزاد تجارت کے دفاع کی اپیل کر رہے ہیں۔
جنوری میں چین نے اپنا اعلیٰ سفارت کار افریقی ملک Lesotho بھیجا، جہاں ابتدائی طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا تھا، اور ترقیاتی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق چین 53 افریقی ممالک سے درآمدات پر زیرو ٹیرف نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اسی دوران چین ہمسایہ ممالک کو مصنوعی ذہانت سے لیس کسٹمز نظام کی پیشکش کر رہا ہے اور تجارت سے متعلق ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید بنانے پر کام جاری ہے تاکہ عالمی تجارت میں اپنا کردار مزید مضبوط بنایا جا سکے۔














