بیجنگ/واشنگٹن: گلوبل ٹائمز کے مطابق 2026 کے سرمائی اولمپکس میلانو کورٹینا میں چین کی نمائندگی کرنے والی فری اسٹائل اسکیئر ایلین گو نے مزید دو چاندی کے تمغے جیت کر اپنی مجموعی اولمپک کامیابیوں کی تعداد پانچ کر لی ہے۔ وہ اب سرمائی اولمپکس کی تاریخ میں سب سے زیادہ تمغے جیتنے والی خاتون فری اسٹائل اسکیئر بن گئی ہیں، جن کے پاس دو طلائی اور تین چاندی کے تمغے ہیں۔
سان فرانسسکو، کیلیفورنیا میں پیدا ہونے والی ایلین گو نے 2019 میں چین کی نمائندگی کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد سے ان کی شہریت اور نمائندگی کے معاملے پر امریکا اور چین دونوں میں بحث جاری ہے۔
حالیہ دنوں میں یہ معاملہ اس وقت دوبارہ خبروں کی زینت بنا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکا میں پیدا ہونے اور امریکی نظام سے فائدہ اٹھانے والے کھلاڑی امریکا ہی کی نمائندگی کریں۔ایلین گو کی جانب سے تاحال اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تاہم انہوں نے 9 فروری کو شنہوا نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ غیر ملکی میڈیا اب انہیں چینی ایتھلیٹ گو آئی لِنگ کہتا ہے اور وہ چین اور چینی اسکیئنگ کھیل کی نمائندگی کر رہی ہیں۔یاد رہے کہ 2022 کے بیجنگ سرمائی اولمپکس کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ وہ خود کو بیک وقت امریکی اور چینی سمجھتی ہیں اور دونوں ممالک کی شکر گزار ہیں۔
سوشل میڈیا پر گرما گرم بحثنائب صدر کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بعض صارفین نے وینس کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کسی کھلاڑی کے ذاتی فیصلے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔
ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ "امریکی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو مجبور کیا جائے کہ وہ کس ملک کے لیے کھیلے۔”دوسری جانب کچھ صارفین نے کہا کہ قومی فخر کھیلوں کا اہم پہلو ہے اور ایسے بیانات "امریکا فرسٹ” جیسے بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم کھلاڑی اکثر ذاتی، ثقافتی اور پیشہ ورانہ عوامل کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر بھی ایلین گو کے حق میں آوازیں بلند ہوئیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ امریکا خود کو "میلٹنگ پاٹ” کہتا ہے، اس لیے اسے دوسروں کے فیصلوں پر تنقید کا کم حق حاصل ہے۔
کچھ صارفین نے طنزیہ تبصرہ کیا:”میڈل جیتنے سے پہلے کہا جاتا ہے واپس چین جاؤ، اور جب میڈل جیت لو تو غدار کہہ دیا جاتا ہے۔”ماہرین کے مطابق کھیل اور سیاست کا ملاپ نئی بات نہیں، تاہم عالمی سطح پر شہرت رکھنے والے ایتھلیٹس کے فیصلے اکثر قومی شناخت اور عالمی شہریت سے متعلق وسیع تر مباحث کو جنم دیتے ہیں۔














